جنون عشق کی راہیں : by Abeeha Mughal princess...

 جنون عشق کی راہیں :


" تم جس دنیا میں قدم رکھنے جا رہے ہو وہ نظر نہیں آتی . وہ تیز روشنی میں بھی دکھائی نہ دینے والی ایک اندھیری دنیا ہے . یہاں تم پر حملے ہونگے ، دھوکے ملیں گے ، پیروں میں کانٹے بچھائے جائیں گے ، اپنے تمہارے دل پر تیر پر تیر چلائیں گے ، لیکن اس کے با وجود اگر تم یہ سب سہنے کو تیار ہو ،زھر کا یہ پیالہ پینے کے لیے تیار ہو تو یہ دنیا تمھاری ہے " ..............................................................................................................

حال کافی محنت سے سجایا گیا تھا .ہر طرف شور کی آوازیں تھیں ، گانوں کی آواز سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی ،لیکن وہ بہت پر جوش انداز میں ناچتی ہوئی اپنے نام کا انتظار کر رہی تھی ،  مائک میں نام اناؤنس ہوتے ہی وہ دوڑتے ہوے اسٹیج کی طرف بڑھی ، وہ ننھی سی لڑکی جس کا نام ہرا تھا اپنا انعام ہاتھ میں لیے کیمرے کو دیکھ رہی تھی جو عین اسٹیج کے سامنے تھا . 

جتنی تیز وہ پڑھائی میں تھی ، اتنی ہی وہ شرارتوں میں بھی تھی . ہر کوئی اس کی شرارتوں سے پریشان ضرور رہتا تھا . لیکن وہ بچی تھی کیا کرتی ، شرارتیں کرنا تو ہر بچے کی عادت ہوتی ہے . وہ اسی طرح ہاتھ میں انعام لیے اسٹیج سے اتری ( انعام پر بڑے سے حروف میں پہلی پوزیشن اور نیچے اسکول کا نام تھا )  . وہ بڑھتے ہوے آگے آئ اور انعام اپنی ماں کو پکڑا دیا . 

اور پھر دوبارہ سے بیٹھ کر باقی بچوں کی پرفارمنس دیکھنے لگی . فنکشن کے بعد وہ لوگ گھر کی طرف چل دیے . ہرا کا سارا  دن مصروف رہتا تھا ،  صبح اسکول ، وہاں سے آکر مدرسے ، اور پھر باقی وقت ٹویشن . مدرسہ اور ٹویشن گھر سے زیادہ دور نہیں تھے . لیکن باقی بچوں کی طرح وہ ناجانے کی ضد ضرور کرتی تھی .  پڑھائی میں اچھی وہ اس لیے بھی تھی کیونکے اس کے والدین اسے وقت دیتے تھے اور توجہ سے پڑھاتے تھے .

 ہرا بھی اسی ریس میں آگے بڑھتی رہی کہ کچھ بھی ہوجائے لیکن دوسروں سے اچھی پوزیشن ضرور لینی ہے . اس کے بعد اس نے کئی اسکول بدلے ، کئی گھر بدلے ، گھر میں ہوتی تو بہن بھائیوں کے ساتھ کھیلتی اور لڑتی بھی تھی . ایک چیز تھی جو اس میں بری تھی وہ تھا اس کا غصّہ اور زندگی کو لے کر نیگیٹو سوچ . 

چھٹیوں میں وہ لوگ مامی کی طرف جاتے تھے ، جہاں ان کی کزنز اس کا بے صبری سے انتظار کرتی تھیں .  وہ مل کر خوب موج مستی کرتے ، سب کو تنگ کرتے ، پھر سب بیٹھ کر چھٹیوں کا کام کرتے تھے . ان کے لیے سب کچھ ان کا کزنز تھے ، وہ ایک دوسرے سے لڑتے ، جھگڑتے ، ڈرامے دیکھتے ، ایک ہی جائے نماز پر نماز پڑھتے ،  ایک ہی  پلیٹ میں کھانا کھاتے ، ایک ہی بستر میں ایک ہی کمبل اوڑھ کر سوتے .  زندگی بہت مزے میں تھی . بارشوں میں وہ اکٹھے نہاتے ، ایک دوسرے پر چھینٹے ڈالتے . 

ہرا کی پڑھائی میں سب سے زیادہ ساتھ اس کی مامی اور ماموں کا تھا اس لیے اس کا پیار اپنی کزنز کے ساتھ بہت زیادہ تھا . ہرا بہت پیاری تھی . وہ ہر طرح کی کتابیں پڑھتی ، اسلامک کتابیں بھی پڑھتی ، محفلوں میں بھی جاتی ، نعتیں پڑھتی ہر کوئی اس کی تعریف کرتا . ہرا کی چار بہنیں اور ایک بھائی تھا . ہرا کو دنیاداری کے بارے میں کچھ نہیں پتا تھا . مانا کہ وہ پڑھائی میں اچھی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کے لیے پڑھنا اور بھی مشکل ہوگیا . اور یہیں سے قدرت نے اسے آزمانا شروع کیا .

------------------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ ایک بہت ہی چھوٹا سا اسکول تھا جہاں ہرا چھٹی  کلاس میں داخلہ لینے آئ تھی . چھوٹا سا آفس ، چھوٹی چھوٹی کلاسیں ، لیکن وہاں اسے ایک دوست ملی . جس کا چہرہ گول تھا ، جب وہ مسکراتی تو بہت اچھی لگتی تھی . اس کا نام علیشا تھا . وہ بہت ہی کیوٹ تھی . جیسے جیسے وقت آگے بڑھا علیشا اور ہرا دوست بن گئے ، ان کی کلاس میں زیادہ بچے نہیں تھے بس ٤ سے ٥ ہی تھے ، باقی ٣ لڑکے تھے ،اس سے پہلے چھٹی کلاس میں کافی بچے تھے لیکن جیسے ہی کلاس چینج ہوئی بچوں نے اسکول چھوڑ دیا .ہرا اور علیشا ایک ہی بینچ پر ایک ساتھ بیٹھتے تھے ،ایک دوسرے کو گفٹ دیتے ،مل کر ہوم ورک کرتے ،ہنستے ، کھیلتے ، مذاق کرتے .علیشا میں ایک ٹیلنٹ تھا وہ ڈرائنگ بہت اچھی بناتی تھی ، اس کی ڈرائنگ دیکھ کر سب بہت حیران ہوجاتے تھے .

ہرا اور علیشا ایک ساتھ رہے ، لیکن کچھ وقت کے بعد ہرا نے وہ اسکول بھی چھوڑ دیا .

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------

اب نئے اسکول میں داخل ہوتے ہوے وہ بہت ہچکچارہی تھی ، اس کی چھوٹی بہن اور بھائی ساتھ تھے لیکن اس نے کبھی بھی ایسا ماحول نہیں دیکھا تھا .لڑکے اور لڑکیاں ایک ہی کلاس میں اور لڑکیاں گانے گاتے ہوے ، لڑکے لڑکیوں کو چھیڑتے ہوے وہاں ایسے بہت سے واقعات ہوے جنہوں نے ہرا کو بہت گم صم سا بنا دیا .اب وہ علیشا کو کم وقت دینے لگی ، وہاں وہ دونوں دوستیں ضرور تھیں لیکن وقت نہ دینے کی وجہ سے وہ الگ ضرور ہوئیں تھیں .

ہرا تو پہلے ہی اچھی پڑھائی کرتی تھی ، ٹیچرز کے لیکچرز سنتی تھی ، لیکن علیشا کا یہ حال تھا کہ وہ ڈرائنگ نہیں کر پاتی تھی .ہرا کی پڑھائی تو اچھی جا رہی تھی لیکن ان کی دوستی میں ایک خلا آگیا تھا .وہ وقت دونوں کے لیے مشکل تھا . نویں اور دسویں کے پیپر کافی اچھے گئے اور پھر ہرا نے وہ گھر چھوڑ دیا وہ کسی دوسرے شہر میں چلے گے . لیکن علیشا اب بھی اس کے ساتھ تھی . اب ہرا نے علیشا کے ساتھ وقت گزارنا شروع کیا ، شروع شروع میں مشکل تھا لیکن دھیرے دھیرے وہ ایک دوسرے کے پاس آنے لگیں ، میٹرک کلئیر ہوچکا تھا اور اب وہ قدرے خوش بھی تھیں .

اب وہ اکثر ساتھ ہی ہوتیں ، وقت بیت رہا تھا ، دونوں نے کالج میں ایڈمشن لے لیا .کالج کافی  اچھا اور بڑا تھا . وہاں انہیں ایک اور دوست ملی حورین وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ فوٹو گرافی بھی کرتی تھی ، وہ تینوں لیکچر لیتے ،  انجوائے کرتے ، باہر ساتھ گھومتے پھرتے ، ان کی دوستی اور گہری ہوگی .

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------

سورج بہت ہی آب و تاب سے چمک رہا تھا ، اردو کی مس بہت ہی اطمینان سے اپنی کلاس کو پڑھا رہی تھیں ، وہ شائد گرائمر کا کچھ بتا رہی تھیں ، دائیں طرف پہلے ہی بینچ پر ہرا ، علیشا ، حورین ، بیٹھیں تھیں . کہ اچانک کلاس میں ایک لڑکی داخل ہوئی ، وہ قدرے لیٹ تھی . علیشا اور حوریں ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے . ساری کلاس اس لڑکی پر ہنس رہی تھی لیکن ہرا وہیں جم گئی تھی ، وہ لڑکی جو وہاں موجود تھی اس کا نام انمول تھا . ٹیچر بہت غصے سے بول رہی تھیں : وقت دیکھا ہے تم نے یہ کوئی ٹائم ہے کلاس میں آنے کا .

لیکن ہرا منہ کھولے اور اپنا دایاں ہاتھ گال پر رکھے بس اسے دیکھی جا رہی تھی .

اس کا نام رجسٹر میں لکھو . اس اسے ٹیچر کی آواز آئ . انمول نے اس کی طرف دیکھا جو منہ کھولے اسی کو دیکھ رہی تھی . ہرا اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی کئی لمحے ایسے ہی بیت گئے . اسے دوبارہ ٹیچر کی آواز آئ اور وہ جی اچھا کہتی ہوئی رجسٹر پر جھک گئی . لیکچر ختم ہوا تو سب بچے دوسری کلاس کی طرف جانے لگے . لیکن ہرا وہیں کھڑی تھی جیسے وہ انمول سے بات کرنا چاہتی تھی .

وہ وقت تھوڑا مشکل تھا ان دونوں کی بات نہ ہوسکی ، بریک میں وہ تینوں اسی کے بارے میں بات کر رہے تھے . کہ انمول ان کے سامنے سے گزری . علیشا اور حوریں اسے دیکھنے لگے ہرا کھڑی ہوئی اور اس کے پیچھے جانے لگی . وہ دونوں حیرانگی سے ہرا کو دیکھنے لگے کہ اسے کیا ہوا . ہرا کافی دور تک انمول کے پیچھے گئی . اور بہت ہمت کر کے اس کے سامنے آئ . انمول نے لب کھولے شائد وہ کچھ بولنا چاہ رہی تھی . ہرا کو دیکھ کر وہ تھوڑا ڈر کر پیچھے ہوئی لیکن اگلے ہی لمحے سنبھل گئی . 

ہائے ! مائی نیم از ہرا اینڈ یور نیم ؟ 

ہرا بہت بیتابی سے اسے دیکھنے لگی .  اور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا .

انمول نے ہاتھ بڑھایا اور اپنا تعارف کروایا . مائی نیم از انمول . انمول تھوڑا مسکرائی اور پھر اپنا ہاتھ چھڑالیا . کیا آپ مجھے لائبریری کا بتا سکتی ہیں . وہ قدرے پریشانی سے پوچھ رہی تھی . 

جی بلکل آپ میرے ساتھ چلئے میں آپکو لے چلتی ہوں . ہرا یہ کہتے ہوے لائبریری کی طرف بڑھی . کچھ دیر میں وہ لائبریری میں داخل ہوے . 

بہت بہت شکریہ ... انمول نے مسکان سجا کر کہا .

ہرا حیران ہو کر اس کی طرف گھومی : اس میں شکریہ کی کیا بات ہے . یہ تو میرا فرض ہے 

ویسے آپ بریک کیوں نہیں کر رہیں . آئ مین آپکا کوئی فرینڈ نہیں ہے شائد .. ایم آئ رائٹ 

 انمول اب تک ایک کرسی پر بیٹھ چکی تھی . جی دراصل میں اس شہر میں نئی ہوں ، اور کالج میں نیو ایڈمشن . اس لیے ابھی میں ہر چیز سے ناواقف ہوں .

کوئی بات نہیں آج سے ھم دوست ہیں ، آپکو جب بھی کوئی ضرورت پڑے یا کوئی بات پوچھنی ہو تو پوچھئے گا میں حاضر ہوں ہرا نے جھکتے ہوے کہا پھر سیدھی ہوئی .

انمول نے اس کی طرف دیکھا تو غور کیا کہ وہ جب ہنستی ہے تو اس کی گال پر ایک گڑھا پڑتا ہے . وہ اسی کو دیکھنے لگی .

ہرا نے اس کے سامنے ہاتھ ہلایا تو وہ ہوش میں آئ اور پھر کتاب پر جھک گئی . 

اچھا ٹھیک ہے میں چلتی ہوں میری دوستیں میرا انتظار کر رہی ہونگی ، یہ کہتے ہے ہرا کھڑی ہوئی تو انمول بھی کھڑی ہوگئی : ٹھیک ہے اگلی کلاس میں ملتے ہیں . اور پھر ہرا وہاں سے چلی گئی .

انمول نے اسے دیکھا اور پھر دیکھتی چلی گئی :  اسے زندگی میں پہلی بار کوئی انسان اتنا اچھا لگا تھا .

ہرا سست روی سے چلتی ہوئی باہر آئ جہاں اس کی دوستیں اس کا انتظار کر رہی تھیں

—------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

  اگلے روز ہرا کلاس میں آئ تو سب سیٹ کیا ، رول نمبر وغیرہ ارینج کیے ، پھر آہستہ آہستہ سارے بچے کلاس میں داخل ہونے لگے ، انمول بھی آج جلدی آگئی لیکن وہ اس وقت بلکل اکیلی تھی ،اس لیے ہرا اس سے کل کے بارے میں پوچھنے لگی ، کہ اسے کالج کا ماحول کیسا لگا ، اس کے بعد وہ ایک بینچ پر بیٹھ گئے ، ہرا کی دو دوستیں آج چھٹی پر تھیں ، البتہ حوریں بعد میں آگئی تھی ، کیونکے اسے پتا تھا کہ ہرا سب  کام اکیلے نہیں کر پائے گی .

وہ تینوں باتیں کرنے لگے ، لیکچر شروع ہوچکا تھا ، ہرا اور حوریں معمول کے مطابق نوٹس بنانے لگے ، انمول بس انہیں دیکھ رہی تھی اور کچھ نہیں ، انمول کے کچھ سبجیکٹس ان سے الگ تھے . اس لیے ان کا دوسرا لیکچر الگ تھا .

وہ دونوں اپنے نوٹس بیگ میں رکھنے لگے ، ہرا نے سب کچھ ارینج کیا .

ہرا انمول کافی اچھی لڑکی ہے نہ بلکل نئی ہے اور اس کی باتیں کتنی سادہ ہیں . کچھ دیر کے بعد حوریں اس کی طرف متوجہ ہو کر بولنے لگی .

ہاں یہ تو ہے ابھی اس کی کوئی دوست نہیں ہے اس لیے وہ کنفیوز ہے ہرا نے جواب دیا ..

کچھ دیر کے بعد ایک لڑکی ان کے پاس آئ اور پرنسپل میم کا میسج دینے لگی . دراصل ہرا ان کے کام آسانی سے کر دیتی تھی اس لیے پرنسپل میم اسے اکثر بلایا کرتیں تھیں اور وہ بلا جھجک چلی جاتی تھی .آج بھی وہ حوریں کے ساتھ آفس گئی .

------------------------------------------------------------------------------------------------------------


دن یونہی بیت رہے تھے ، وہ لوگ ہر روز باقائدگی سے لیکچر لیتے تھے ، باتیں کرتے یوں ان کی دوستی اور گہری ہوتی گئی ، ہرا کے پاس بہت سا کام ہوتا تھا جسے وہ چاروں مل کر کرتے تھے ، اب وہ کافی وقت لائبریری میں گزارتے ، پپرز پاس آرہے تھے .

ہرا ، انمول ، حوریں اور علیشا ایک جگہ اکٹھے ہوتے اور اپنا پورا دھیان اپنی پڑھائی کو دیتے تھے .ایسا نہیں تھا کہ وہ موج مستی نہیں کرتے تھے ، بلکے اب وہ پہلے سے زیادہ مزے میں رہتے تھے .آخر وہ دن آ ہی گیا جس کا سب کو انتظار تھا ، پہلا پیپر ، جو ان کے کالج میں ہی تھا ، سب تیار تھے .

ایک جگہ ہرا کلاس کے بچوں کو اکٹھا کر کے کچھ سکھا رہی تھی ، کہ کیسے سوال حل کرنے ہیں ، اور دوسری طرف علیشا ، حوریں اور انمول کچھ دہرارہے تھے . اس بار بھی ہمیشہ ہی طرح سب کی پرفارمنس اچھی رہی . سب ہرا کا شکریہ  ادا کر رہے تھے .پپر کے بعد وہ پرنسپل کے آفس چلی گئی ، مس کی طبعیت صحیح نہیں تھی اس لیے ہرا کے سر بہت سا کام تھا ، لیکن اسے فکر نہیں تھی کیونکے اس کی دوستیں اس کے ساتھ تھیں . اس کے بعد وہ لوگ باہر گھومنے گئے . اور پھر گھر آ کر آرام کیا . لیکن انمول کی طبعیت بہت خراب ہونے لگی . سب اس کے بارے میں سن کر پریشان تھے . اب صرف پیپر میں ایک چھٹی تھی اور اسی میں سب کرنا تھا .

سب انمول کے گھر اکٹھے ہوے ، اسے حوصلہ دیا ، ہرا نے پیپر پہلے سے ہی تیار کیا تھا .اور پرنسپل کا کام وہ لوگ کب کا کرچکے تھے .اس لیے اس نے انمول کے گھر رکنے کا سوچا . انمول کی آنکھوں میں آنسو آگئے . اس نے منع ضرور کیا لیکن ہرا رک گئی . باقی سب شام میں چلے گئے . ہرا انمول کے لیے کھانا لے کر آئ ، پھر اسے دوا دی ، دوا کے بعد اسے آرام سے سلا دیا .

وہ انمول کا بہت خیال رکھ رہی تھی ، اور پھر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انمول خود کو کافی اچھا محسوس کرنے لگی . وہ ہرا کے گلے لگ گئی اور اس کا شکریہ ادا کرنے لگی ، ہرا نے پیار سے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرا اور کان میں کچھ سرگوشی کرنے لگی . یہ سب واقعی بہت اچھا تھا . سب پپرز ختم ہونے کے بعد ان کا کالج بھی اب ختم ہوچکا تھا . اب انہیں آگے یونیورسٹی کے بارے میں سوچنا تھا .

آخری پیپر والے دن وہ باہر گئے ، خوب موج مستی کی اور پھر ڈھیروں یادیں لے کر گھر کی طرف چل دئیے .

-------------------------------------------------------------------------------------------------------------

 .


 . 

کہانی یہاں پر ختم نہیں ہوتی بلکے اصل کہانی تو اب شروع ہوئی ہے ، تو چلتے ہیں حرا کی لائف کے ١٥ سال پہلے :  جب وہ چھوٹی تھی اس کے دل میں کوئی خواب نہیں تھا ، وہ ویسے ہی سب کچھ کرتی تھی جیسا وہ دوسروں کو کرتا دیکھتی تھی ،لیکن وہ اکثر ہی کھو جاتی ہے ، ڈر جاتی تھی ،اپنی زندگی سے خوش نہیں تھی ،اس سے پڑھا نہیں جاتا تھا ،اسے ایک ایسے دوست کی ضرورت تھی جسے وہ سب بتا سکے ، لیکن ایسی کوئی تھا ہی نہیں ، پھر اس کی آنکھوں نے خواب دیکھنا شروع کیے ، تب تک وہ چھٹی کلاس میں آ گئی تھی ،وہ بچپن سے ہی اچھے اسکول میں نہ پڑھ پائی تھی ،لیکن ہمیشہ اچھی زندگی کو آنکھوں سے دیکھا کرتی تھی .

وہ خود کو ایسے انسان کے قریب دیکھتی تھی جو اسے بہت زیادہ پیار دے رہا ہے ،ایسا گھر جہاں سب کچھ ہو ،وہ اپنی مرضی سے زندگی جی سکے ، کسی کی غلام نہ ہو ،لیکن حقیقیت کچھ اور تھی وہ بہت کمزور تھی ،زندگی اسے بہت ستا رہی تھی ، جس نے اسے خود کی ذات سے دور ، بہت دور کردیا تھا ،لیکن وقت کے بہاؤ کے ساتھ اس کے خوابوں کی دنیا بڑھتی چلی گئی ،اس نے ایسا سوچنا شروع کردیا کہ اسے وہ سب مل کر ہی رہے گا .ساتویں کلاس میں ہی اس کی آنکھیں بہت کچھ دیکھا کرتی تھی .

اس کے من میں ڈھیروں سوال ہوتے اور دماغ کچھ نہ کچھ سوچ رہا ہوتا ،لیکن دنیا اسے کوسنے کے علاوہ کچھ کر نہیں رہی تھی ، والدین بھی جانے انجانے اسے بہت برا بول رہے تھے ، تین سال تک وہ خود کو بہت کمتر محسوس کرنے لگی تھی . اسے اس بات پر حیرانگی تھی کہ وہ دوسروں کی طرح کیوں نہیں ہے ، وہ چپ چاپ لیکچر سنتی ،لیکن اپنے اردگرد دوستوں کو دیکھ کر رونے لگتی کہ یہ سب اتنا عجیب کیوں ہے .

کیا واقعی خواب سچ ہوسکتے ہیں ،وہ اکثر خود سے پوچھا کرتی : کیا میں اس سے نکل پاؤں گی ،جب وہ اندھیرے میں آتی تو اکیلی پڑجاتی . قدرت اسے آزما رہی تھی ،پڑھائی کرنے لگتی تو نہ کرپاتی ،کچھ بھی نہیں ہوتا تھا اب ہر کوئی اس کا مذاق اڑارہا تھا ،وہ بری طرح سے تنگ آچکی تھی ، اس دنیا سے ، ٹیچرز سے ، لوگوں سے ، اپنے کلاس کے بچوں سے ، اور یہاں تک کہ والدین کے طعنوں سے کہ : دوسرے ایسے ہیں تو تم ایسی کیوں نہیں ہو ..


اس کے اندر ایک شعلہ بھڑک رہا تھا ، وہ اس دنیا سے کہیں دور جانا چاہتی تھی ، بہت دور جہاں وہ سکون سے جی سکے ،یہ پڑھائی ، نوکری ، یہ بلاوجہ کی ڈانٹ ، ان سب سے دور جانا چاہتی تھی وہ ، یہ وہ دنیا تھی جسے کوئی نہیں دیکھ رہا تھا ،لیکن اس کی آنکھیں ضرور بتاتی تھیں کہ اگر اسے کچھ کرنے کا موقع ملے وہ ضرور کچھ نہ کچھ کرے گی . اب اسے اپنے خوابوں سے ہی عشق ہونے لگا ، ایسا عشق جو صبح شام اسے تڑپا رہا تھا ، خون کے آنسو رلا رہا تھا . اس کی حالت ایک عاشق کی طرح ہوگئی تھی جو پاگل ہوچکا تھا .

اور کچھ غلط بھی تو نہیں تھا اسے اس سماج ، دنیا نے ہی تو ایسا بنایا تھا . کئی سال اس نے دوسروں کو خوش کیا تھا ،لیکن اب وہ خود کو خوش کرنا چاہتی تھی ، کسی کا ساتھ چاہتی تھی ، کسی سے جی بھر کر پیار اور محبت کرنا چاہتی تھی  اور پھر اس نے خود سے محبت کی .

------------------------------------------------------------------------------------------------------------


یہ اس رات کی بات ہے جب وہ اپنے بیڈ پر لیٹی تھی ،ایک عجیب سی کشمکش تھی ،اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہورہا ہے ،کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوے اسے اندر سے آواز آئ ، اب اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ کسی کی نہ سنے گی ، اور خود کو اس قابل بنائے گی کہ دوسرے اس کی مثالیں دیں . وہ رات واقعی بہت حسین تھی ، پھر وقت بیتنے کے ساتھ وہ بدل رہی تھی ،اس کا رویہ ، بات کرنا کا طریقہ ، زندگی کو دیکھنے کا نظریہ سب بدل چکا تھا ، اسے ہر کوئی اپنے اپنے طریقے سے سکھ رہا تھا ، اور یہ وہ دن تھے جب وہ فارغ تھی ، اسکول سے فارغ اب وہ دوسرے شہر لاہور منتقل ہوگیے تھے .

اس کے لیے لاہور میں سیٹل ہونا ایسا تھا جیسے ایک ناکام انسان کا کامیاب ہونا ، لیکن اب وہ رکنا نہیں چاہتی تھی ،کہیں نہ کہیں ڈر اور خوف اس میں ٹھاٹھیں مار رہا تھا ،دوستوں کو کھونے کا ڈر ، والدین کے پیار کو کھونے کا ڈر ، اور دوسری طرف ناکام ہونے کا ڈر .

اندھیری راتوں میں کئی آنسو اس کی جھولی میں گرے ، لیکن کچھ تھا جو اسے ڈھونڈنا تھا ، کچھ تھا جو اسے اپنی زندگی سے سیکھنا تھا ، وہ تھا صبر ، حوصلہ ، اور خود کی ذات کو ثابت کرنا ..

خوابوں کی نگری گہری اور بڑی ہوتی گئی ، دنیا نے اسے جس گہرے کنویں میں پھینک دیا تھا وہ اس سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈ رہی تھی ، خود کو ایک کمرے میں بند کرلیا ، اور اپنی ذات کو شاباشی دی ، والدین نے اس سے بات کرنا چھوڑ دی ، صبح شام ڈانٹ ، طعنوں اور بےعزتی کے علاوہ کچھ ملتا نہیں تھا ، لیکن وہ اس سے لڑتی گئی ، کبھی کبھی ٹوٹ جاتی تو چیخیں مار مار کر روتی ، لیکن وہاں کوئی نہیں تھا جو اسے سن پاتا ،  پھر اکثر خود کی چیخ سن کر راتوں کو جاگ جاتی ، پھر کئی راتیں اس کی آنکھوں سو ہی نہ پاتیں .

حد سے زیادہ محنت سے زخمی قدم منزل کی طرف بڑھنے لگے تھے ، راہوں میں کانٹے بچھے تھے ، پہلے تو وہ صرف اکیلی تھی لیکن اب ہر گفتگو کا حصہ تھی ، جو اسے اندر تک توڑ کر رکھ دیتا تھا .

-----------------------------------------------------------------------------------------------------------

دھیرے دھیرے قدرت کے امتحانات بڑھتے چلے گئے ، اور وہ بھی لڑکھڑاتے ہوے آگے بڑھتی گئی ، سب سے پہلے اس نے اپنا حلیہ درست کیا ، اچھے سے بات کرنا سیکھا ، کالج میں کافی لوگوں کے ساتھ اس نے اٹھنا بیٹھنا شروع کردیا ، اب وہ صرف ایک انسان پر منحصر نہیں تھی بلکے ہر ایک کو پرکھ رہی تھی ، اکثر وہ خالی کالج میں گھوما کرتی ، مختلف کتابیں اٹھاتی اور کتاب لکھنے والے کے خیالات کو داد دیتی تھی ، راہ چلتے رکتی ، آسمان کی طرف دیکھتی ، خدا سے باتیں کرنے لگتی ، بارش کے قطروں میں یادوں کو سمو لیتی ، اب دھیرے دھیرے اسے کچھ سمجھ آرہا تھا .

کہ یہ دنیا ایک مخصوص پیٹرن پر ہی چل رہی ہے :  پڑھو لکھو ، نوکری کرو اور شادی پھر گھر کے کام وغیرہ .. لیکن اس کا کیا جو اس کے من میں چل رہا تھا ، زندگی اس کا ہاتھ تھامے اسے بہت کچھ بتا رہی تھی لیکن وہ رک کر زندگی کے گلے لگ کر روپرتی تھی ، اب لمحے بھی طویل ہوتے جارہے تھے ، پہلے وہ انتظار میں تھی کسی ایسے رہنما کے جو اسے راہیں بتائے ، اس عشق کی راہ میں اسے اپنا بنالے ، پھر ایک دن کمرے میں بیٹھی لیپ ٹاپ کی سکرین پر نظر رکھے وہ ویڈیو دیکھ رہی تھی ، ایک سر کی تقریر سن رہی تھی ، جنہوں نے وہی کہا جو وہ سننا چاہتی تھی ، اگر آپ کسی رہنما کی تلاش میں ہو تو خود کو آئینے میں دیکھو . آپ ہی خود کے لیے وہ کر سکتے ہو جو کوئی دوسرا نہیں کرے  گا .


پھر ایک لمبی مسافت کے بعد اس نے اپنا چہرہ آئینے میں دیکھا ، جو زمانے کی تلخیوں سے تھک چکا تھا ، آنکھوں میں ویرانی تھی ، ہونٹ سوکھ چکے تھے ، اور سر کے بال ایسے تھے جیسے وہ نجانے کتنا عرصہ جنگلوں میں رہی ہو ، پھر اس نے بہت مشکل سے اپنے ہونٹوں کو اوپر کیا ، ایک پیاری سی مسکان اس کے چہرے پر آگئی ، آنکھیں چھوٹی ہوگئیں ، اور پھر اسے وہ پل یاد آئے جب وہ بچپن میں کھلکھلا کر ہنسا کرتی تھی ، لیکن اب وقت تھا خود سے بات کرنے کا ، شروعات میں وہ خود کو دیکھتی چلی گئی .. آنکھوں کی گہرائیوں میں کھو گئی .

اور پھر وقت کے بہاؤ کے ساتھ وہ خود کو پہچاننے لگی ، دن با دن اپنا خیال رکھنے لگی ، خود سے بات کرنے لگی ، مسکرانے لگی ، کئی کئی گھنٹے سوچوں میں گم رہنے والی حرا اب واقعی ہیرا بن چکی تھی . کیا وہ واقعی اتنی پیاری تھی کسی نے اسے بتایا ہی نہیں تھا ، اب وہ آنکھوں میں سرما لگانے لگی ، ہونٹوں کو تر رکھنے لگی ، اپنے بالوں کی حفاظت کرنے لگی ، اپنے آپ کو سب چیزوں سے دور رکھ کر کھل کر مسکرانے لگی .

زندگی اسے دیکھ کر مسکرا دی ، اور پھر کھویا ہوا مسافر زندگی کا ہاتھ تھام کر منزل کی طرف بڑھنے لگا .

-----------------------------------------------------------------------------------------------------------

اس کا سفر تو ابھی بھی ختم نہیں ہوا تھا ، دن ، لمحے بیتنے لگے ، اور وہ خود کے بہت پاس آنے لگی ، رات کے مخصوص حصے میں وہ چھت پر آنے لگی ، کھلے آسمان کو دیکھتی ، چاند تاروں کو دیکھتی ، ٹھنڈی ہواؤں کو خود میں محسوس کرنے لگی ، پاؤں ٹھنڈی زمین پر پڑتے ہی وہ آنکھیں بند کرلیتی ، کسی حسین خواب کی طرح وہ پری تھی جو چاند پر جانا چاہتی تھی ، کہانیاں سچ ہی ہوسکتی ہیں ، خواب حقیقیت بھی بن سکتے ہیں ، زخمی سینہ جب ٹھنڈی ہوا کو خود میں سموتا تو بہت سے درد سامنے آتے اس کی آنکھیں بھیگ جاتیں ، سفر کتنا بھی مشکل کیوں نہ ہو ، جب منزل سامنے ہو تو ہونٹ مسکرانے لگتے ہیں ، پھر سب بھول جاتا ہے کہ اس ننھے دل نے کتنی تکلیف سہی ہے . دنیا نے جو کرنا ہے وہ کر کے ہی رہنا ہے . لیکن جسے چلنا ہوتا ہے وہ چلتا رہتا ہے . چاہے آسمان آگ برسا رہا ہو یا سردی میں برف پر رہی ہو بارش میں . کوئی سینے سے لگا کر خنجر بھی کھونپ دے تب بھی اسے معاف کرنا ہوتا ہے

حسین چہروں اور مسکانوں کے پیچھے کروڑوں دکھ چھپے ہوتے ہیں ، جو وہی سمجھ سکتا ہے جو عشق کی راہوں میں جنونی ہو ، عشق کے سمندر میں غوطہ لگا کر سب سہہ لے اور پھر دنیا کو مسکراتا ہوا چہرہ دکھا کر کہے کہ میں ٹھیک ہوں .

-----------------------------------------------------------------------------------------------------------

ایسے ہی اس کی سیکنڈ ایئر پوری ہوچکی تھی ، اب اسے وہ بولنا تھا جو وہ اپنی زندگی میں کرنا چاہتی تھی ، اس نے اپنے والدین کو منانے کی کوشش شروع کردی ، لیکن وہ لوگ نہیں مان رہے تھے . حرا اب اپنے مطابق پڑھنا چاہتی تھی ، بچپن سے جو اس کے والدین نے پڑھایا وہ اس نے پڑھا ،لیکن اب وہ کھل کر جینا چہ رہی تھی . بہت منت سماجت کے بعد وہ اسی کالج کے باہر کھڑے تھے جہاں سے اس نے سیکنڈ ایئر پورا کیا تھا ، وہ وہاں کھڑی ہو کر اپنے والدین کو یہ بتا رہی تھی کہ وہ کمپیوٹر پڑھنا چاہتی ہے ، اتنی محنت کے بعد تو اس نے کمپیوٹر سیکھا تھا .

 پھر آخر کار اس کے والدین مان گئے ، اور وہ کالج میں خوشی خوشی داخل ہوئی ، وہ اندر اور باہر دونوں طرف سے بہت خوش تھی .اور یوں اس کی دوستیں بھی بنیں ، اور اسے یہاں ایک دوست ملی رامین . وہ بہت ہی اچھی تھی ، اس میں ایک بات تھی کہ اسے غصہ بہت آتا تھا یہی سیم چیز حرا میں بھی تھی ، رامین نے اس پر قابو پانے کے لیے ایک پروفیشن کا انتخاب کیا .وہ لوگوں کو متحرک کرتی تھی .

لوگوں کی مشکلوں کو سمجھ کر انہیں اس کا جواب دیتی تھی .اور یوں جب وہ دونوں ساتھ رہنے لگیں تو انہوں نے اپنی پروبلمز ایک دوسرے کے ساتھ شئیر کیں .اور ایک دوسرے کو متحرک کیا .اب وہ صبح شام ملتے ، باتیں کرتے ، وہ اپنی باقی دوستوں سے بھی بات کرتی تھی لیکن جتنی قریب وہ انمول اور رامین کے تھی اتنی وہ کسی کے ساتھ نہیں تھی .   

حرا کے اوپر پریشر ابھی بھی تھا ، اب اس کے والدین نے اسے کہا کہ وہ بچے پڑھائے ، جس کی وجہ سے حرا اپنی پڑھائی میں توجہ نہ کر سکی ، اور اس کی وجہ سے اس کی سپلی آگئی . وہ بہت پریشان ہوگئی ، لیکن اب کی ہوسکتا تھا . پھر اسے اس کی دوستوں نے حوصلہ دیا . حرا کافی دن ایسے ہی پریشان اور اداس رہی ، لیکن پھر آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہونے لگا .

------------------------------------------------------------------------------------------------------------

 وقت گزرنے کے ساتھ سب ٹھیک ہونے لگا ، ہر چیز اپنی جگہ پر آچکی تھی ، نیا سال شروع ہو چکا تھا ، اور اس کے شروع ہونے سے ٹھیک ایک دن پہلے وہ اپنی مامی کی طرف گئی تھی ، وہ دن کافی یادگار تھا ، سب کزنز ایک جگہ اکٹھے ہوے تھے ، جب ایسا ہوتا تو عید کا سماں ہوتا تھا ، وہ دن بھر مستی کرتے رہے پھر رات میں واپس آئے ، یہ وہ دن تھے جب حرا کے پاس ایک کام تھا ، اور وہ اس رات چھت پر آگئی تھی .

اس نے خود کی ایک کتاب بھی لکھی تھی ، جس کی ہارڈ کاپی اس نے نکلوائی تھی ، جب وہ کالج جاتی تو وہ خالی خالی سا دکھتا تھا ، ان دنوں باقی کلاسوں کے پیپر ہورہے تھے ، وہ ایک کتاب پکڑے ایک کونے میں کھڑی رہتی ، وہ واقعی حسین تھا ، تب اس کی دوستیں بہت کم ہی کالج آتیں تھی لیکن وہ خوش تھی ، کہ وہ اس کالج سے بہت کچھ لے کر جا رہی تھی ، دل میں کہیں نہ کہیں امید ضرور تھی کہ جو ہوگا وہ اچھے کے لیے ہی ہوگا . جب وہ زیادہ فارغ رہنے لگی تو اپنی زندگی کو غور سے دیکھنے لگی . 

اس نے جیسے تیسے کر کے بچوں سے جان چھڑوائی ، اور اب زیادہ تر وقت غور و فکر کرنے لگی ، انہی دنوں اسے بزنس میں بھی کامیابی مل رہی تھی ، جو اس نے نئے سال سے پہلے شروع کیا تھا ، بہت مشکلوں سے وہ دن آ ہی گیا جب اس کا پیپر تھا ، وہ پوری تیاری سے پیپر دینے گئی ، بارش ہورہی تھی اور وہ تقریبا دوڑتے ہوے اندر داخل ہوئی ، وہاں اسے اپنی کلاس کی باقی لڑکیاں بھی مل گئیں، اب وہ سب مل کر اوپر گئیں اور پیپر کرنے لگیں . وہ اتنا بھی مشکل نہیں تھا .

اب پریشر اور بڑھنے لگا گھر والے اسے نئے بزنس کے لیے کوسنے لگے ، وہ تنہائیوں میں رونے لگی ، لیکن وہ پھر سے کھڑی ہوئی وہ جانتی تھی کہ اسے ضرور کچھ نہ کچھ ملے گا اور ملا بھی ، صبح شام کی میٹنگز نے اسے بلکل انسٹوپپبل بنادیا تھا ، وہ خود کو بہت اچھے طریقے سے تیار کر رہی تھ ا، صبح شام وہ بہت مصروف انداز میں سب کرنے لگی ، کچھ وقت خود کے ساتھ بتاتی ، اور پھر عشق کی ان تاریک اور جنونی راہوں میں وہ خود کو ہی اپنا سب کچھ ماننے لگی : ماں باپ ، بہن بھائی ، دوست ، ٹیچر ، سب کچھ .باہر کے مقابلے تو ختم نہیں ہو رہے تھے  لیکن وہ اندر سے کچھ حد تک خاموش تھی .

ایسے ہی رمضان آگیا اور وہ روزہ رکھ کر اگلی کلاس کی تیاری کرنے لگی ، اگست میں پیپر تھے ، اور وہ کالج سے بلکل فری تھی ، ان دنوں اس نے بہت سی کتابیں پڑھیں ، سنیں ، بہت سے کورسز کیے ، بہت سے سرٹیفکیٹس اپنے نام کیے . رمضان کے بعد عید کا دن اچھا خاصا رہا ، اور یوں سب کچھ سامنے آرہا تھا . اب وہ دن آ چکے تھے جب پیپر شروع ہوچکے تھے ، اور وہ گھر والوں سے دور ہو کر بس پڑھائی کرنے لگی . اس نے جاب چھوڑ دی ، اور بزنس بھی ایک دفعہ بند کردیا ، ہر چیز سے دور ہو کر وہ بس کتابیں پڑھنے لگی ، بہت محنت سے تیاری کی اور پیپر دئیے ، دوستوں سے بھی ملی اور آخری دن بھی بہت مزے کیے ، دوستوں تو بعد میں بھی ملتی رہیں لیکن اب وہ فارغ تھی ، جب اس کے پاس کچھ کرنے کے لیے نہیں تھا تب ہی اس نے ایسے ہی ایک ویب سائٹ کھولی جہاں لوگ اس سے سوال پوچھ رہے تھے ، اور وہ ان کا جواب خوشی خوشی دینے لگی ، اس کی پورے سال کی کامیابیاں بہت زیادہ تھی .

پھر وہ گھر والوں اور رشتے داروں کے کہنے پر ایک انٹرویو بھی دینے گئی ، لیکن وہ دو دن سے زیادہ وہاں کام نہیں کر سکی ، لیکن اسے اپنا مقصد مل چکا تھا اور وہ تھا لوگوں کو متحرک کرنا . اس کے لیے اسے گھر والوں سے لڑنا پڑا وہ لڑی ، ان سے چھپ کر کام کرنا پڑا ، لیکن اب وہ خوش تھی کیونکے اسے وہ مل چکا تھا جو وہ چاہتی تھی ، پھر چاہے پوری دنیا ہی اس کے خلاف کیوں نہ ہوجائے ، اس کے بعد اس کی طبعیت کچھ ناساز رہی اس نے اپنا خیال اپنا خیال خود ہی رکھا ، اور خود کو حوصلہ دیا ، اب تجھے وہ مل چکا ہے جو تجھے پانا تھا اب چل رکنا نہیں اس نے خود کو کہتے سنا ، اور پھر وہ گرتی سنبھلتی اگے بڑھتی گئی ، اور پھر اس سال کا اختتام  اس نے بہت شاندار طریقے سے کیا ، سال کے آخر تک اس کے پاس تین سے چار بزنس تھے اور اس کے ساتھ وہ خود تھی یہ کوئی نہیں جانتا تھا .

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ وہ دن تھا جب اس کا رزلٹ آیا تھا ، وہ رزلٹ کا انتظار بےصبری سے کر تو رہی تھی لیکن وہ ایک دم آجائے گا یہ اسے پتا نہیں تھا ، ان دنوں اس نے خود کو آرام دیا ہوا تھا ، خود چھٹیاں دیں تا کہ وہ آرام سے کاموں اور اپنے بزنس کے بارے میں سوچ سکے ، صبح سے نیٹ کا مسلہ تھا ، اس لیے ایک دوست کے کہنے پر اسے رزلٹ کا پتا چلا تھا ، اس نے ویب سائٹ کھولی ، اپنا رولنمبر ڈالا اور پھر سب سے آخر میں دیکھا وہاں پاس لکھا ہوا تھا ، وہ بہت خوش تھی ، اس نے اس کے لیے بہت محنت کی تھی .

اور وہ دن تھا جس کا اسے انتظار تھا ، اس نے ٹوٹل نمبر دیکھے ، ہر سبجیکٹ میں اچھے خاصے نمبر اس نے لیے تھے ، اور لاہور بورڈ میں سیکنڈ ڈیوین لی تھی ، اس دن کئی دنوں کے بعد اس نے اپنی دوستوں سے بات کی ، یہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا ، آگے کب پڑھنا ہے یہ وہ نہیں جانتی تھی ، لیکن ابھی فلحال وہ خوش بہت تھی .

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------

 وقت بیت رہا تھا اور اس کا خود کے ساتھ گزارنے کا وقت بھی زیادہ ہورہا تھا ، اب وہ تقریبا سارا دن ہی خود کے ساتھ گزارتی . اسے دھیرے دھیرے خود کی پہچان ہونے لگی ، کہ کیسے ١٥ سے ١٨ سال وہ ، وہ سب کرتی رہی جس کے لیے وہ پیدا ہی نہیں ہوئی ، دنیا کو لگتا رہا کہ وہ ان جیسی ہے جانے انجانے والدین بہن بھائی رشتے دار ، دوست احباب ، اور آس پڑوس  کے لوگ اس سے وہ کرنے کو کہتے جو اس سے ہوتا ہی نہیں تھا . کیونکے وہ سب سے الگ تھی ، الگ سوچتی تھی ، اس کے چلنے کا انداز ، بولنے کا انداز سب الگ ہی تھ ، اس کی مثال ایک مچھلی کی طرح تھی جو عشق کے سمندر میں غوطہ لگا کر ہی پہچانی جاتی تھی ، اور وہ بھی لوگوں کی باتوں میں آ کر ان جیسا بننے کی کوشش کرنے لگی . ان کی طرح دوست بنانا ، انہیں میسیجز کرنا ، کال کرنا , سارا دن پڑھتے رہنا ، گھر کا کام کرنا ، نوکری کرنا ، لیکن یہ سب  اس سے ہوتا ہی نہیں تھا وہ  ہر جگہ گڑبڑ کر دیتی تھی .

اور پھر دنیا کے لوگ اسے پاگل کہتے ، ان پڑھ کہتے ، جاہل کہتے ، اس کی قابلیت کا حساب نمبروں سے لگاتے ، اس کے والدین کو لگتا تھا کہ وہ یہ سب جان بوجھ کر کرتی ہے ، خود ہی نہیں پڑھتی ، گھر کے کام نہیں کرتی ، وہ بگڑ گئی ہے .

لیکن ایسا کچھ بھی نہیں تھا وہ اب تک اندھیرے میں جی رہی تھی . کہ وہ دوسروں کی طرح نہیں ہے تو قصور اس کا ہی ہے ، لیکن وہ خود کے ساتھ رہنے لگی اور عشق کی جنونی راہوں میں چلنے لگی ، پھر ایک انجان سی آواز نے اسے تھام لیا ، کہ تم صحیح ہو ، جو کام تمھیں خوشی دیتا ہے ، سکون دیتا ہے وہی تمہاری پہچان ہے . تم سب سے الگ ہو ، اس بھیڑ سے باہر نکلو ، یہاں لوگ ایک روبوٹ کی طرح زندگی جیتے ہیں .اور جو یہ زندگی نہیں جینا چاہتے انہیں روبوٹ بنا دیا جاتا ہے .

لیکن تم ایسی نہیں ہو ، تمھیں لڑنا ہوگا ، سب سے جنگ لڑنی ہوگی ، دنیا کو دکھانا ہوگا کہ تم ان جیسی نہیں ہو بلکے بلکل الگ ہو ، میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں ، میں جانتی ہوں کہ تم ایک قیمتی ہیرا ہو . اگر تم ان کی طرح ہوتی تو ابھی تک تمھیں ان کی طرح جینا آجاتا ، ان کی طرح بولنا آجاتا ، لیکن نہیں تم ایک ہیرا ہو ، ہیرا چاہے کتنا بھی کالا کیوں نہ ہوجائے وہ ہیرا ہی رہتا ہے کوئلہ نہیں بن جاتا . تمہاری دنیا الگ ہے ، تمھیں کسی دوسرے کی طرح نہیں بننا ، تمھیں خود کی طرح بننا ہے .

یہ وہ آواز تھی جو کسی کسی کو ہی سنائی دیتی ہے ، جو واقع میں الگ ہوتا ہے ، جب وہ چھوٹا ہوتا ہے تو سب سے الگ ہوتا ہے لیکن دنیا کے لوگ اسے اپنے جیسا بنا دیتے ہیں ، ہیرے پر کالک لگا کر اسے کوئلہ بناتے ہیں ، وہ ہوتا ہیرا ہی ہے : دنیا اس پر پا بندیاں لگا دیتی ہے ، کھل کر نہیں ہنسنا ورنہ لوگ کیا کہیں گے ، اچھلنا کودنا نہیں کیونکے تم بڑے ہوگئے ہو ، دوسرے کی طرح پورے نمبر لانے ہیں ، اچھی نوکری کرنی ہے ورنہ بھوکے  رہو گے ، گھر کے سارے کام آنے چاہیے ورنہ سسرال والے سو باتیں کریں گے کہ ماں باپ نے کچھ سکھایا نہیں .

پھر دھیرے دھیرے اس بچے کے لیے کھل کر ہنسنا ، کھل کر جینا اور اپنی مرضی سے قدم بڑھانا مشکل ہوجاتا ہے ، اور پھر بڑے ہو کر وہ ایک بندر کی طرح زندگی جیتا ہے ، جو دوسرے کرتے ہیں بس وہی کرتا رہتا ہے ، اگر وہ کھل کر ہنسے تو اسے پاگل کہا جاتا ہے ، کسی سے پیار کرے تو مجنوں کہلاتا ہے ، نفرت کرے تو جانور کہلاتا ہے ، زیادہ پڑھے تو پڑھاکو ، نہ پڑھے تو جاہل ، کم بولے تو کہتے ہیں بولنا نہیں آتا ، زیادہ بولے تو باتونی ، کم کھائے تو کہتے ہیں گھر والے اسے کھلاتے نہیں ، زیادہ کھائے تو کہتے ہیں کھانے کے علاوہ کچھ آتا نہیں .

موبائل استعمال نہ کرے تو کہتے ہیں دنیا سے واقف نہیں یہ تو کوڑے سے نکل کر آیا ہے ، اگر موبائل زیادہ استعمال کرے تو کہتے ہیں کہ موبائل کے علاوہ کچھ دکھتا نہیں . دوسروں کے وقت گزارے تو کہتے ہیں کہ بہت فارغ ہے ، اور اگر اکیلا ہو تو کہتے ہیں سنگل ہے ، مسکرائے تو لوگ کہتے ہیں کہ پاگل ہے اور اگر سیریس رہے تو کہتے ہیں کہ بزنس مین کی طرح سیریس رہتا ہے . 

جب والدین کے پاس بیٹھتا ہے تو والدین کے پاس اسے دیکھنے کا بھی وقت نہیں ہوتا ، اور اگر نہ بیٹھے تو کہتے ہیں کہ بگڑ گیا ہے .   

زندگی کے ہر موڑ پر اتنی باتیں ، طعنے اور بےعزتی سننے کو ملتی ہے کہ کچھ لوگ تو خودکشی ہی کر لیتے ہیں ، لیکن جو زندہ رہتے ہیں : اور ان کانٹے دار راہوں پر چل کر ، اپنے دل اور دماغ کو منزل پر رکھ کر ، خون کی آنسو بہا کر چلتے ہیں ، انہیں عاشق کہا جاتا ہے ، جو اپنے خوابوں کے لیے پاگل ہوتا ہے .

حرا کی کہانی بھی ایسی ہی ہوگئی تھی ، لیکن اسے یقین تھا کہ وہ ایک دن وہ اس سمندر کی گہرائی میں جائے گی ، اور اپنا محل ڈھونڈے گی جو اس کی اصل پہچان ہے ، اور پھر ساری دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھے گی کہ وہ کون ہے .

------------------------------------------------------------------------------------------------------

صبح کی روشنی پھیل رہی تھی ، سورج پوری آب وتاب سے چمک رہا تھا ، حرا صبح سویرے روٹی کے کچھ ٹکڑے لے کر آئ ، اور ایک کونے میں پھیلادئیے ، اور دوڑ کر اندر کی طرف چل دی ، وہ یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ کوئی پرندہ وہاں اتا ہے یا نہیں ، کچھ دیر میں چھوٹی چھوٹی چڑیاں اپنی ننھی چونچوں سے روٹی توڑ رہی تھیں ، وہاں چڑیوں کی لائن لگی تھی  ، اور پھر وہ پانی کے برتن کے قریب جاتیں ، یہ واقعی بہت مزے کا نظارہ ہوتا ، پھر دوسری چڑیا آتی اور شور مچاتے ہوے ادھر ادھر دیکھتی اور پھر روٹی پر جھک جاتی .

حرا کو یہ نظارہ بہت پسند تھا ، وہ پچھلے ٢ سے ٣ سالوں سے یہی کر رہی تھی ، وہ چڑیوں کی بولی بولنا چاہتی تھی ، وہ اپنے منہ سے ایک خاص آواز نکلتی تھی جس سے چڑیاں اس کی طرح متوجہ ہوتیں تھی ، وہ مسکراتے ہوے یہ سب کرتی تھی . جب ذرا سا بھی وہ لیٹ ہوجاتی تو چڑیاں خود اسے بلاتی تھی .

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------


نیا سال شروع ہوچکا تھا ، حرا کو بزنس کرنے کا بہت شوق تھا ، اس نے پہلے بھی ایک بزنس کھولا تھا ، اس میں شروع میں بہت سر کھپائی تھی لیکن دھیرے دھیرے اسے سب سمجھ آنے لگا ، کہ لوگوں کو کیا پسند ہے ، سو اس نے اس بات پر دھیان دینا شروع کیا ، اب اس کی بزنس کی تعداد بڑھتی رہی ، یہ ١٠ سے ١٥ تک پہنچ گئی ، یہ بہت ہی چھوٹے سے اس نے شروعات کی تھی ، انمول ، حورین ، رامین اور علیشا کو یہ جان کر خوشی ہوئی تھی کہ حرا کا کام اچھا جا رہا ہے ، اس کا دل لگ گیا تھا بزنس میں ، اب وہ اسے کسی بھی صورت چھوڑنا نہیں چاہتی تھی .

اس کے والدین اسے یہ سب کرنے سے روکتے رہے لیکن وہ ضد پر اڑی رہی ، وہ اپنے اندر کی بے چینی کو سکون دینے لگی ، اب صبح شام وہ بزنس میٹنگز کرنے لگی ، اور باقی کا وقت وہ ناول لکھنے ، کتابیں لکھنے ، کتابیں پڑھنے ، انٹرنیٹ سے نئی ویڈیوز دیکھنے میں لگاتی ، اور بہت سا وقت سوچ وچار میں گزارتی تھی

اب وہ ان سب کی عادی بن گئی تھی ، آگے پڑھنے کا مسلہ تھا ، لیکن اس نے وہ سب خدا پر چھوڑ دیا ، اور آگے بڑھتی رہی . اور وہ دن آ ہی گیا جب اس نے یونیورسٹی میں ایڈمشن لے لیا ، جن دنوں وہ فارغ تھی اس نے اس میں تیاری کرلی تھی ، کہ اگلی کلاس میں کیا ہوتا ہے ، کتنے سبجیکٹس ہوتے ہیں ، اور اس نے وہی کیا جو وہ ہمیشہ سے کرنا چاہتی تھی ، وہ ساتھ ساتھ پڑھتی گئی ، ساتھ ساتھ اپنے بزنس کرتی رہی ، اور سب سے خوشی کی بات یہ تھی کہ اس کی دوستیں اس کے ساتھ تھیں . شروع شروع میں ہر کام میں مسلے تو ہوتے ہی ہیں ، اسے بھی ہوے لیکن وہ کبھی بھی خود کے ساتھ وقت گزارنا نہیں بھولی ..

خود کے ساتھ ساتھ وہ لوگوں کو متحرک کرتی تھی اور اپنی دوستوں کو بھی اور یہی اس کی زندگی کا مقصد بن چکا تھا

—------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

وقت کے ساتھ وہ آگے بڑھتی چلی گئی ، نہ صرف پڑھتی بلکے اپنے بزنس اور باقی کاموں کو اچھے سے سنبھلتی رہی ، اس کے خواب حقیقیت کا روپ دھار رہے تھے ، وہ بہت خوش تھی کہ وہ اپنی زندگی کو بہت مزے سے جی رہی ہے . کافی محنت اور کوشش کے بعد وہ بہت بڑا نیٹ ورک بنانے میں کامیاب ہوئی ، اب اسے ہر مہینے پروپر انکم ملنے لگی ، اس کے بعد اس کی شادی کی بات بھی ہونے لگی ، وقت کا بہاؤ تیزی سے بہ رہا تھا وہ خوش تھی کہ اسے ہسبنڈ بھی بہت سپورٹ کرنے والا ملا ہے .

اس کے شوہر نے اس کے ہر کام کی تعریف کی ، اور اس کے ساتھ بہت مزے کے لمحات گزارے ، اس کا ساتھ دیا اور پھر حرا کو اپنی منزل سامنے نظر آنے لگی . وہ بہت خوش ہوئی اور خدا کا شکر ادا کرنا چاہتی تھی لیکن کیسے پھر اس نے اپنے ساس سسر کا اچھے سے خیال رکھنا شروع کردیا ، حرا کی تین نیندیں اور ایک دیور تھا جن کے ساتھ تعلق وقت کے ساتھ ٹھیک ہونے لگا . اور وہ بھی گھر داری سیکھنے لگی ، شوہر کے ساتھ وہ بہت جگہ گھومتی وہ ہر ہفتے کسی نئی جگہ جاتے ، خوب مزے کرتے ، مزے مزے کے کھانے کھاتے . اب وہ ہر لمحہ خوش تھی .

اس کے خواب حقیقیت بن کر سامنے آئے تھے شائد کسی دوسرے کے لیے یہ یقین کرنا واقعی میں مشکل ہو کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے اس کی زندگی میں لیکن حرا نے کہیں نہ کہیں وہ سپنے دیکھ رکھے تھے .

------------------------------------------------------------------------------------------------------------

وقت آگے بڑھ رہا تھا اب وہ پوری طرح سے تیار تھی ، ان دونوں کی انتھک محنت سے انہوں نے ایک گھر بنایا یہ گھر نہیں بلکے ایک محل تھا دھیرے دھیرے ترقی ہونے کے ساتھ اس نے اسے اچھے سے سجایا . اور پھر کچھ حصہ کرائے کے لیے الگ کیا . حرا اب ساس سسر کا خیال رکھنے کے علاوہ اپنا ایک آفس بھی بنا رہی تھی . جہاں وہ کھل کر اپنا کام کر سکے ،اس نے اسے بہت کھلا اور بڑا بنایا تھا . محل میں ہر طرح کی سہولت میسر تھی ، چھوٹی سے لے کر بڑی چیز .

پھر حرا اور اس کا شوہر آفاق صبح شام آفس میں رہتے ، کام کرتے ، دھیرے دھیرے انہوں نے ایک بڑی ٹیم بنائی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہتی .  گھر نما محل میں حرا کا کمرہ بہت بڑا تھا ایک طرف بہت ہی انمول بیڈ تھا جس کے اس پاس لائٹس لگی تھی ، داییں طرف میز اور کرسی پڑے تھے جہاں کتابیں ، پنسل ، پن ضرورت کا سارا سامان پڑا تھا .

ایک طرف الماری تھی جہاں دنیا جہاں کے کپڑے اور جوتے تھے . اکثر ہی وہ ان سب کو دیکھ کر رو پڑتی تھی کہ اس نے انہیں حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ سہا ہے . جو خواب دیکھ کر وہ مسکرا دیتی تھی آج وہی خواب حقیقیت بن کر سامنے تھا .

ایسے ہی ایک حسین صبح وہ شیشے کے سامنے کھڑی تھی ، اور اپنے بال سنوار رہی تھی ، بلیک پینٹ کوٹ میں وہ آفس گرل لگ رہی تھی ، وہ آفس کے لیے تیار ہورہی تھی ، ایک ہاتھ میں فائل پکڑ رکھی تھی آج اسے میٹنگ پر جانا تھا . اچانک فون کی آواز آئ تو اس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا موبائل اٹھایا ، اور میسج دیکھا . یہ انمول کا تھا جس کے گھر میں آج پارٹی تھی اور اسے بھی انوائٹ کیا گیا تھا .

وہ ہلکا سا مسکرائی اور کی پیڈ پر تیز تیز انگلیاں چلانے لگی ، اسے پتا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے .

------------------------------------------------------------------------------------------------------------

 اس دن وہ پوری طرح سے کام میں مصروف رہی ، شام کے چھے بج چکے تھے وہ پارٹی کے بارے میں بھول گئی تھی ، وہ ایک دم سے فون کی طرف بڑھی جو کافی دیر سے بج رہا تھا ، اور میسیجز بھی آئے ہوے تھے ، اس نے فون اٹھایا اچانک اسے پارٹی کا یاد آیا پھر وہ سب کو فون ملانے لگی . اس نے لیپ ٹاپ سکرین کو آف کیا ، اور سب کچھ سمیٹنے لگی . 

" اوہ میں تو بھول ہی گئی تھی کہ مجھے پارٹی میں جانا ہے "   

کافی دنوں سے وہ دوستوں سے ملنے کا سوچ رہی تھی لیکن چلو آج وہ پارٹی کے بہانے سب سے مل بھی لے گی . آفس سے باہر نکل کر وہ گاڑی کی طرف بڑھی ، انمول کا گھر زیادہ دور نہیں تھا لیکن وہ آہستہ آہستہ گاڑی چلاتی ہوئی کسی خیال میں گم تھی . 

کچھ دیر میں وہ گھر کے سامنے کھڑی تھی ، وہاں اور بھی بہت سی گاڑیاں کھڑیں تھیں . حرا نے پہنچتے ہی فون کیا . اندر آتے ہی سب اس سے ملنے لگے ، انمول نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا . باقی علیشا ، حوریں بھی آئین لیکن رامین تھوڑا لیٹ تھی . پھر وہ سب پارٹی انجؤے کرنے لگے ، خوب باتیں کیں ، جی بھر کر کھانا کھایا اور پھر سب گھر جانے لگے .

انمول نے حرا کو روک لیا تھا . پھر وہ دونوں ساتھ چلتی ہوئیں گاڑی کی طرف آئین . حرا تیز گاڑی چلا رہی تھی کچھ دیر میں بولی :

کچھ بھی کہو یار لیکن پارٹی بہت مزے کی تھی ، کھایا بھی بہت مزے کا تھا اور ڈیکوریشن بھی اچھی تھی ... انمول نے چہرہ موڑ کر اسے دیکھا وہ کھلے بالوں اور بلیو فراک میں بہت پیاری لگ رہی تھی . اور پھر اسے دیکھتی رہی .

ہاں ھم دو سالوں سے نہیں ملے ، اس لیے میں نے یہ پارٹی رکھی اور شکر ہے کہ تم نے اس بار کوئی بہانہ نہیں بنایا . اور پھر ساتھ ہی وہ مسکرادی . حرا بھی ہنس دی .

اور کالج کے دن یاد کرنے لگی جب وہ پہلی بار ملے ، وقت کافی آگے بڑھ گیا تھا لیکن ان کی دوستی  ابھی تک وہیں تھی . وہ لونگ ڈرائیو کرتے ہوے ایک ریسٹورنٹ پر رکے ، اس کے بعد وہ شاپنگ کرنے چلے گئے .  رات کے دس بج چکے تھے ، پھر حرا نے اجازت مانگی اور وہ گھر کی طرف بڑھے .

آج کا دن بہت خوبصورت تھا ، کاش ھم ہر روز ایسے ہی ملتے رہیں اور وہ کالج کے دن  واپس لوٹ آئیں .

انمول بڑبڑاتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی . اور پھر اوپر چاند کو دیکھا جو پوری طرح سے چمک رہا تھا .

-------------------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ ایک ایسی ہی حسین صبح تھی ، ہلکی ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی ، ہر طرف کالے بادل چھائے تھے . ایسے کہ آج جی بھر کر بارش ہونے والی تھی . چڑیوں کے چہچہانے کی آوازیں آرہی تھیں . اور حرا حسب معمول اپنے بستر سے اٹھی . شیشے کے سامنے کھڑی ہوئی اور تیار ہونے لگی

آفس کا وقت ہونے والا تھا ، آفاق بھی شائد ابھی اٹھا تھا . اور شاور کے بعد باہر چلا گیا تھا . وہ جلدی سے تیار ہوئی کچھ ڈاکومینٹس پکڑے اور کار کی طرف بڑھی . اب آفاق کسی سے فون پر بات کر رہا تھا ، حرا کو دیکھ کر اس نے موبائل نیچے کیا اور اسے کچھ بتانے لگا ، آج ایک ضروری میٹنگ تھی اس لیے حرا کو جانا پڑا ورنہ وہ ایسے مزے کے موسم میں چھٹی کرتی .

دونوں میٹنگ کے بارے میں سوچتے اور باتیں کرتے جا رہے تھے ، میٹنگ ایک بڑے حال میں تھی جہاں دنیا کے بڑے بڑے بزنس مین آئے تھے ، میٹنگ آفاق نے دینے کا سوچا اور حرا پاس بیٹھ کر اسے سمجھنے لگی اور نوٹس بنائے . آج ایک نہیں بلکے دو میٹنگز تھیں اس لیے وہ بریک لے کر کچھ دیر باہر چلے گئے . ریسٹورنٹ میں رکے اور پھر واپس آ کر کام کرنے لگے .

حرا آفس آئ اور لیپ ٹاپ پر جھک کر کوئی کام کرنے لگی .وہ کافی تھک چکی تھی . لیکن ایک دم سے آفس کا دروازہ کھلا اور وہ چونکی . اور تھکی آنکھوں سے اوپر دیکھا . وہاں رامین اور علیشا کھڑے تھے . حرا پہلے تو دیکھ کر یقین نہ کر پائی پھر حیران ہو کر ان کے قریب آئ . وہاں حوریں اور انمول بھی تھے . دراصل آج حرا کا برتھڈے تھا اور وہ بھول گئی تھی لیکن انہیں یاد تھا .

پھر سب مل کر بیٹھے ، باتیں کیں ، پھر وہ لوگ باہر گھومنے گئے ، کیک کاٹا . گفٹ کھولے اور خوب ساری مستی کر کے وہ سب گھر لوٹ گئے . حرا وہاں سے آفاق کے ساتھ گھر واپس آئ . آفاق نے بھی اس کے لیے بڑا پلان کیا ہوا تھا . اس نے پورا گھر سجایا . کیک کاٹا ، گفٹ وغیرہ دئیے . اور پھر وہ دونوں خوشی سے باتیں کرنے لگے . آج کا دن واقعی میں یادگار تھا .

حرا بہت سی یادیں لے کر لیٹ چکی تھی .

-------------------------------------------------------------------------------------------------------

پھر وہ دن آ ہی گیا جب حرا کے گھر ننھی پری آئ .وہ بہت پیاری تھی ، اس شام حرا کی دوستیں بھی آئ ہوئیں تھیں . حرا کی طبعیت کچھ خراب تھی لیکن وہ ننھی پری کو دیکھ کر بہت خوش تھی . وہاں آفاق بھی موجود تھا . اس کا نام حرا نے شانزے رکھا . وقت کے ساتھ جب وہ بڑی ہونے لگی تو حرا نے اپنا سب کام چھوڑ دیا .اور بس شانزے کو توجہ دینے لگی . آفاق اکثر چھٹی کرلیتا یا جلدی آجاتا ، دونوں نے شانزے کی بہت اچھی تربیت کی .

وہ اسے اچھے سے وقت دینے لگے ، اسے اچھے سے پڑھایا . اور وہ غلطی جو حرا کے ماں باپ نے کی تھی وہ حرا نے نہیں کی اور حرا کو بہت سوچ سمجھ کر گھر میں ہی پڑھانا شروع کیا . اس نے آفاق سے کھل کر بات کی تو وہ بھی مان گے . آفاق بھی پڑھنے میں شانزے کی مدد کرنے لگا . اور پھر دیکھتے دیکھتے وہ دس سال کی ہوگئی .

اور پوری طرح سے اپنے والدین کے ساتھ اٹیچ ہوگئی . پوری توجہ ، پیار اور محبت کی وجہ سے اب شانزے بہت خوش خوش رہتی تھی . شانزے کے ساتھ وقت گزارنے کی وجہ سے حرا کو پتا چلا کہ وہ پینٹنگ میں بہت اچھی ہے . گھر میں اس کے لیے ایک لائبریری بھی موجود تھی جہاں وہ گھنٹوں بیٹھ کر کتابیں پڑھا کرتی .جس سے وہ دنیا کے بارے میں سب جاننے لگی .

--------------------------------------------------------------------------------------------------------


حرا اور شانزے آج ایک جگہ سیر کے لیے آئے تھے ، یہ جگہ کافی خاموش تھی ، وہاں بہت کم لوگ دکھائی دیتے تھے . حرا ایک جگہ بیٹھ گئی اور شانزے کو بٹھا کر سب کچھ بتانے لگی ، شانزے زیادہ تر گھر میں ہی رہتی تھی اس لیے اب باہر آ کر بہت اچھا محسوس کر رہی تھی . پھول ، درخت ، چڑیوں کے چہچہانے کی آوازیں . کھلا آسمان ، ندیاں ، اور تیزی سے بہتا ہوا پانی . یہ سب دیکھ کر شانزے وہیں رہنے کی تمنا کرتی تھی .

حرا اسے سب کچھ بتاتی رہتی ، شانزے باہر لوگوں کے ساتھ بھی اچھے سے بات کرتی تھی .  حرا نہیں چاہتی تھی کہ کوئی ایسی چیز رہ جائے جو وہ شانزے کو نہ سکھا سکے . حرا اسے سارا دن کچھ نہ کچھ نیا سکھاتی رہی ، اور شانزے لکھتی رہتی . اکثر ہی وہ کچھ نہ کچھ لکھ رہی ہوتی ، پھر اسے آہستہ آہستہ پتا چلا کہ شانزے کو لکھنے کا شوق ہے تو حرا نے اسے مختلف کتابیں اور ناول لا کر دئیے .

اور اسے لکھنے کے بارے میں بتانے لگی . اب شانزے کتاب لکھنے کی طرف متوجہ ہوئی .

--------------------------------------------------------------------------------------------------------

کتابیں پڑھتے پڑھتے شانزے کو ڈاکٹر بننے کی خواہش پیدا ہوئی ، جو اس نے حرا کو بتادی . لیکن حرا نے اسے پاس بٹھایا ، اسے ایک ڈاکٹر کے بارے میں سب کچھ بتایا . پھر شانزے کی پہلی بک پبلش ہوئی تو وہ بہت خوش ہوئی . ان دنوں حرا کی طبعیت بہت خراب ہوگئی تو شانزے نے جی جان سے اس کی خدمت کی ، اس کے سرہانے بیٹھی رہتی ، وقت پر دوا دیتی ، اور اکثر راتوں کو بھی جاگتی رہتی . اسی پیار اور توجہ نے حیرا کو بہت جلدی صحت مند بنا دیا .

یہ ایک نئی صبح تھی جب ہیرا چھت پر آئ تھی ، جہاں وہ سورج کو دیکھ رہی تھی جو کالوں بادلوں کا سینہ پھاڑ کر باہر نکل رہا تھا . وہاں شانزے بھی آگئی تو ہیرا نے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا . شانزے کو سکون محسوس ہوا . اور بہت پیار سے اس کا حال پوچھنے لگی .

میری بیٹی نے میری بہت خدمت کی ہے میں بھلا کیسے بیمار رہسکتی تھی .

آج میری سب سے اچھی دوست ہو ماما . آپ نے مجھے ہمیشہ سپورٹ کیا . میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے آپ جیسی ماں ملی ہے .

ہیرا کی آنکھوں میں آنسو آگئے . اسے وہ وقت یاد آیا جے اسے اپنے والدین کی ضرورت تھی لیکن وہ اس کے ساتھ نہیں تھے . اس نے آنکھیں کھولیں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا .

 نہیں بلکے میں خوش نصیب ہوں جو مجھے تم جیسی بیٹی ملی ہے .

اور میں بھی تو خوش نصیب ہوں جو مجھے تم دونوں ملے .. مردانہ آواز سن کر وہ دونوں مڑیں تو وہاں آفاق کھڑا مسکرا رہا تھا . آج آفاق گھر پر ہی تھا بلکے پچھلے کئی دنوں سے وہ ہیرا کی  وجہ سے گھر سے ہی بزنس سنبھال رہا تھا . پھر وہ تینوں ایک ساتھ نیچے جانے لگے .

سورج بس حیرانگی سے تینوں کو دیکھتا رہ گیا .

------------------------------------ختم شد --------------------------------------

 . 

 .

 .

 . 

  



Comments